تحریر: مولانا سید علی ہاشم عابدی
حوزہ نیوز ایجنسی| شہزادہ بصیرت، شہید کربلا، جوان فکر، وارث یقین، آئینہ رسولؐ، مؤذن صبح عاشور حضرت علی اکبر علیہ السلام کربلا میں صرف ایک فرد نہیں تھے، وہ ایک سوال تھے—اور تاریخ گواہ ہے کہ بعض سوالات، تلواروں سے زیادہ خطرناک ہوتے ہیں؛ کربلا میں بہت کچھ ہو رہا تھا: پیاس، محاصرہ، قلت، خوف اور موت کی یقینی خبر، مگر اس ہجومِ الم میں ایک نوجوان کھڑا ہو کر پوچھتا ہے: “کیا ہم حق پر نہیں ہیں؟
یہ سوال صرف امام حسین علیہ السلام سے نہیں تھا، یہ سوال ہر دور کے انسان سے تھا۔ اور جب جواب آیا—“ہاں”—تو اس نوجوان نے وہ جملہ کہا جس نے بصیرت کی تعریف ہمیشہ کے لئے لکھ دی: “پھر ہمیں موت کی کوئی پرواہ نہیں۔”
یہ جملہ جذبات نہیں، نتیجہ ہے؛ یہ نعرہ نہیں، منطق ہے؛ یہ خودکشی نہیں، شہادت ہے۔ یہی فرق بصیرت پیدا کرتی ہے۔
دنیا نے ہمیشہ اکثریت کو حق کا معیار بنایا، مگر حضرت علی اکبر علیہ السلام نے ہمیں بتایا کہ حق کو اکثریت کی ضرورت نہیں ہوتی۔ بصیرت وہ قوت ہے جو انسان کو ہجوم میں بھی تنہا، اور تنہائی میں بھی ثابت قدم رکھتی ہے۔ حضرت علی اکبر علیہ السلام نے ہمیں دکھایا کہ راہ حق پر چلنے والے بہت کم ہیں، مگر انہوں نے یہ بھی دکھایا کہ حق کم ہو کر بھی حق ہے۔
بصیرت آنکھوں کی تیزی نہیں، ضمیر کی بیداری ہے۔ وہ ضمیر جو شور میں بھی سچ سن لیتا ہے اور فائدے میں بھی نقصان کو پہچان لیتا ہے۔
حضرت علی اکبر علیہ السلام کی جوانی کوئی عام جوانی نہ تھی بلکہ فکر کا محاذ تھی۔ انہوں نے درس دیا کہ سوال کرو بغاوت نہیں، سمجھو خودسری نہ کرو، مانو اندھی تقلید نہ کرو، آپ نے ہمیں سکھایا کہ سوال اگر بصیرت سے ہو تو اطاعت کو مضبوط کرتا ہے، کمزور نہیں۔
آج کی دنیا نوجوان کو یا تو خاموش چاہتی ہے یا بے قابو۔ حضرت علی اکبر علیہ السلام نے تیسرا راستہ دکھایا: باشعور اطاعت—جہاں انسان اپنی عقل بھی رکھتا ہے اور اپنے امام سے جڑا بھی رہتا ہے۔
کربلا میں حضرت علی اکبر علیہ السلام کا ہر قدم امام حسین علیہ السلام کی اجازت سے اٹھتا ہے۔ یہ اطاعت کسی کمزور کی نہیں، بلکہ سمت پہچاننے والے کی ہے۔ جو جانتا ہو کہ سورج کہاں ہے، وہ سائے کے پیچھے نہیں بھاگتا۔
آج جب اطاعت کو توہین اور بغاوت کو بہادری کہا جاتا ہے، حضرت علی اکبر علیہ السلام ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ بصیرت قیادت سے کاٹتی نہیں، جوڑتی ہے۔
توجہ رہے کہ جب حضرت علی اکبر علیہ السلام کی آواز، اذان بن کر فضا میں گونجی، تو وہ صرف نماز کا وقت نہیں بتا رہی تھی، وہ باطل کے ایوانوں میں لرزش پیدا کر رہی تھی۔ یہ اعلان تھا کہ طاقت کے شور میں بھی حق کی صدا دبتی نہیں۔
یہ اذان ہمیں بتاتی ہے کہ عبادت اگر شعور کے ساتھ ہو تو وہ انقلابی عمل بن جاتی ہے۔ سجدہ اگر سمجھ کے ساتھ ہو تو تختوں کو چیلنج کرتا ہے۔
آج کا انسان معلومات سے بھرا ہے، مگر یقین سے خالی؛ آوازوں سے گھرا ہے، مگر سچ سے دور؛ ہمدردیوں میں تیز ہے، مگر ذمہ داری میں کمزور۔ ہر طرف بیانیے ہیں—مگر معیار نہیں۔
حضرت علی اکبر علیہ السلام نے بتایا کہ ہر دکھ مظلومیت نہیں، ہر غصہ شجاعت نہیں اور ہر خاموشی حکمت نہیں ہے بلکہ حق کو پہچاننے کے لئے علم، تقویٰ اور مرکزِ حق سے وابستگی لازم ہے۔
حضرت علی اکبر علیہ السلام کی شہادت ہمیں یہ نہیں سکھاتی کہ ہر دور میں خون بہانا فرض ہے، بلکہ یہ سکھاتی ہے کہ ہر دور میں اپنی انا، اپنی سہولت، اپنی مقبولیت کو قربان کرنا لازم ہے۔ آج کا میدان میدانِ کردار ہے، اور آج کی شہادت سچ پر قائم رہنا ہے۔
حضرت علی اکبر علیہ السلام شہید ہو کر ختم نہیں ہوئے، وہ درس بن گئے۔ ایک ایسا درس جو ہر دور کے نوجوان سے سوال کرتا ہے کہ کیا تم نے حق کو پہچان لیا ہے؟
اگر ہاں—تو پھر خوف کی کوئی گنجائش نہیں۔
سلام ہو اس جوان پر! جس نے سوال کو ہتھیار بنایا
سلام ہو اس بصیرت پر! جس نے کربلا کو تاریخ نہیں زندگی بنا دیا۔









آپ کا تبصرہ